تحریر: خصوصی تجزیہ نگار
حالیہ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ایران کا ردعمل کوئی جارحیت نہیں بلکہ اپنی خودمختاری، غیرت اور قوم کے تحفظ کا شرعی حق ہے۔ کوئی بھی خوددار ملک اس وقت خاموش نہیں رہتا جب اس کی سرزمین، عزت اور عوام پر حملہ کیا جائے۔
🔹 پس منظر: اشتعال انگیزی کی تاریخ
گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیل مسلسل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بناتا آ رہا ہے — سائبر حملوں، خفیہ کارروائیوں اور فضائی بمباری کے ذریعے۔ حالیہ حملوں میں ایرانی سائنسدانوں اور دفاعی افسران کی شہادت ہوئی، جو کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے ناقابل برداشت ہے اور اس کا جواب ضروری تھا۔
🔹 ایران کا ردعمل: حکمت سے بھرپور طاقت
ایران کی کارروائی، جسے "وعدۂ صادق" کا نام دیا گیا، محدود اور مخصوص اہداف پر مبنی تھی۔ میزائل اور ڈرون حملے صرف ان فوجی مقامات پر کیے گئے جہاں سے ایران کو خطرہ تھا۔
"ہم امن چاہتے ہیں، مگر غیرت کے ساتھ۔"
🔹 عالمی خاموشی اور اُمتِ مسلمہ کا امتحان
جیسا کہ توقع تھی، مغربی ممالک اسرائیل کے ساتھ کھڑے رہے، مگر افسوس کہ اکثر مسلم ممالک نے خاموشی اختیار کی۔ اس کے باوجود ایران تنہا کھڑا رہا، مگر جھکا نہیں۔
"ہم مظلوم ہیں، مگر کمزور نہیں۔"
🔹 ایران کی حکمت عملی: دفاع، نہ کہ جارحیت
ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، مگر اپنی تحقیر کو بھی برداشت نہیں کرے گا۔
"ہم جنگ کی شروعات نہیں کریں گے، مگر ذلت کو قبول بھی نہیں کریں گے۔"
🔹 اختتامیہ: بیداری کی صدا
ایران کا دفاعی اقدام صرف اس کا حق نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے غیرت مند مزاحمت کی ایک مثال ہے۔
آج ایران ہے، کل کوئی اور ہو سکتا ہے۔
"غیرت کا دفاع دہشتگردی نہیں، بلکہ عزت ہے۔"


💬 Join the Discussion
We welcome your thoughts on the news. Please keep your comments respectful, relevant to the topic, and in English so everyone can understand.
🚫 No hate speech, personal attacks, or spam links will be approved.